کنداپور،2؍ فروری (ایس او نیوز) اڈپی سرکاری پی یو کالج فار ویمن میں سر ابھارنے والے کے حجاب تنازع نے اب کنداپور سرکاری پی یو کالج میں بھی دستک دے دی ۔ جہاں مسلم لڑکیوں کے حجاب پہننے کے خلاف غیر مسلم لڑکوں نے زعفرانی شال اوڑھ کر کالج میں حاضری دی ۔
بتایا جاتا ہے کہ بہترین تعلیمی نتائج کے معروف اس جونئیرکالج میں 28 مسلم طالبات یونیفارم کے ساتھ حجاب یا اسکارف پہنچ کر کالج میں حاضر ہوتی ہیں ۔ اب اڈپی میں گرمائے ہوئے اس مسئلہ کو غیر مسلم طلبہ نے اس کالج میں بھی ابھارنے کی شروعات کی ہے ۔ اور 100 سے زائد غیر ملسم طلبہ زعفرانی شال اوڑھ گلے میں لٹکا کر کالج میں حاضر ہونے لگے ہیں ۔
بدلتی صورت حال کے پس منظر میں کنداپور ایم ایل اے ہالاڈی سرینواس شیٹی نے کالج کا دورہ کیا اور مسلم طالبات کے والدین کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کرتے ہوئے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یونیفارم کے علاوہ کسی قسم کا لباس پہن کر کالج میں حاضر ہونے کی اجازت نہیں رہے گی ۔ لیکن ایم ایل اے کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ چلنے والی میٹنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور مسلم طالبات کے والدین نے صاف لفظوں میں کہا کہ حجاب مسلم لڑکیوں کے لباس کا حصہ ہے اس لئے اسے چھوڑا نہیں جا سکتا ۔
معلوم ہوا ہے کہ کالج انتظامیہ نے تمام طلبہ پر واضح کیا ہے کہ کالج یونیفارم کے ساتھ کوئی دوسرا کپڑا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو صرف یونیفارم کے ساتھ کالج میں حاضر رہنا ہوگا ۔ اس مسئلہ کے بارے میں کالج انتظامیہ نے پولیس کو بھی آگاہ کیا ہے ۔